نئی دہلی ،18؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی اقلیتی کمیشن کے زیر اہتمام غالب انسٹی ٹیوٹ میں بعنوان ’ سماجی فرقہ وارانہ ہم آہنگی ‘ ایک سمینا ر اور ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے راجیہ سبھا ممبر سنجے سنگھ نے شرکت کی ،جبکہ مہمانان ذی وقار کے طور پر اسمبلی اسپیکر رام نواس گوئل ، وزیر خوراک عمران حسین، وزیر سماجی فلاح وبہبود راجندر پال گوتم نے شرکت کی ۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکر خان نے تمام مہمانان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن جلد ہی اسکلس سینٹر کھولنے جا رہا ہے جہاں غریب مزدوروں کے بچے بچیوں کو ہنر سکھائے جائیں گے تاکہ وہ روزگار سے جڑ سکیں اس کے لئے ہمارے پاس فنڈ کی کمی تھی جس کے بارے میں میں نے وزیر اعلیٰ کچریوال سے بات کی اور انہوں نے اسکلس سینٹر کھولنے کے لئے ڈھائی کروڑ روپے کا اضافی فنڈ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی سرکار ایماندار سیاست پر یقین رکھتی ہے سرکار غریبوں کی فلاح وبہبود کے لئے کام کرنا چاہتی ہے ، بد عنوانی کو ختم کرکے سرکار نے غریبوں کی تعلیم اور صحت پر خصوصی کام کیا جس کی وجہ سے دلی سرکار کی تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ماڈل بن گئی ہے ۔
سنجے سنگھ نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میںمختلف مذاہب،نسل ، زبان اور کلچر کے لوگ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آرہے ہیں یہی ہمارے ملک کی خصوصیت اور طاقت ہے جس کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ، کچھ لوگ کبھی اقلیتوں پر سوال اٹھاتے ہیں کبھی دلتوں پر سوال اٹھاتے ہیں ، میں فرقہ پرستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کو آزاد کرانے سے لے کر اس کی تعمیر و ترقی میں کسی ایک طبقہ اور مذہب کانہیں بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کی حصہ داری رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری سرکار نے بدعنوانی کو ختم کرکے اچھی تعلیم ، اچھی صحت خدمات ، مفت بجلی ، خواتین کے لئے بسوں میں مفت سفر جیسی سہولیات عوام کو دیں وہیں، ہماری سرکار نے دہلی میں پانچ فلائی اوور بنائے جس میں ۳۰۰ کروڑ روپے بچائے وہ تین سو کروڑ روپے ہم نے غریبوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں خرچ کئے ہیں۔
رام نواس گوئل نے کہا کہ آج ہمارے ملک میں امن و امان کو بگاڑنے کے لئے اگر کوئی ذمہ دار ہے تو وہ سیاست ہے ، شاید وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں مرنا نہیں ہیں مگر ایک دن سب کو اوپر والے کے پاس جانا ہے ، سیاستدانوں کو ’راون ‘کے حشر کو یاد رکھنا چاہئے ،ایسے ماحول میں جب چاروں طرف نفرت پھیلائی جا رہی ہے ، ہماری اور آپ کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی حفاظت کے لئے آگے آئیں اور بھائی چارے کا پیغام عام کریں۔ عمران حسین نے کہا کہ ملک میں جہاں بھی غریبوں ، پچھڑوں ، اقلیتوں اور دلتوں پر ظلم و انصافی کا معاملہ ہوتاہے ہمارے لیڈر سنجے سنگھ پارلیمنٹ میں اس انصافی کے خلاف پوری طاقت سے آواز اٹھاتے ہیں ، وہیں دہلی اقلیتی کمیشن نے اقلیتوں کے لئے شاندار کام انجام دیئے ہیں یہ پہلی بار ہے کہ عام آدمی کی رسائی کمیشن کے چیئرمین تک ہے کوئی بھی بلا جھجھک کمیشن میں جاکر اپنی شکایت درج کرا سکتا ہے اور چیئرمین سے مل سکتا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ آج کے سمینار کو موضوع بڑی اہمیت کا حامل ہے جس طرح کے ملک کے حالات بن گئے ہیں اس طرح کے پروگرام وقتاً فوقتاً ہوتے رہنا چاہئے تاکہ فرقہ پرستوں کے ناکام عزائم کو روکا جا سکے، یہ ملک امن وامان اور بھائی چارے کو پسند کرنے والوں کا ہے یہاں نفرت کی سیاست زیادہ دن تک نہیں چلنے والی ۔راجندر پال گوتم نے کہا کہ ملک کبھی ذات پات اور نفرت کی بنیاد نہیں چل سکتا، ملک کی ترقی تبھی ممکن ہوگی جب بابا صاحب امبیڈ کرکے اصولوں پر چلاجائے ، آج ملک کا سب سے بڑا طبقہ پسماندگی کی طرف جا رہی ہے یہ بیحد تشویش ناک بات ہے ،اگر ہمیں اس ملک کو بچانا ہے تو نفرت کا جواب محبت سے دینا ہوگا ،اور نفرت کے سوداگروں کو اقتدار کی کرسی سے ہٹانا ہوگا۔
اس موقع پر پرواز میڈیا گرو پ اور ٹائفا کے بانی ڈاکٹر شمیم احمد خاں ، مزاحیہ اداکار احسان قریشی ، صوفی گلوکار ہمسر حیات، پٹھان عبد الرزاق حبیب خان، ونود کدم،ٹی وی آرٹسٹ ذبیر صنم، جیوتی ادھائو، ڈاکٹر احمد شمس الحق، شاہد انجم کو ان کی خدما ت کے اعتراف میں ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔پروگرام کا آغاز معروف عالمی شہرت یافتہ شاعر شرف نانپاروی نے حب الوطنی گیت سے کیا،جسے سامعین کو بیحد پسند کیا۔ اس سے قبل صوفی گلوکار ہمسر حیات اور مزاحیہ اداکار احسان قریشی نے اپنے فن سے سامعین کو محظوظ کیا۔اہم شرکا ء میں دہلی اقلیتی کمیشن کی ممبر نینسی بارلو، دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئرمین حاجی تاج محمد، مرغا مچھلی منڈی کے چیئرمین مہربان قریشی، عرس کمیٹی کے چیئرمین ایف آئی اسماعیلی، حج کمیٹی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر پر ویز میاں، وغیرہ شریک تھے ۔